حدیث نمبر: 1959
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَهُوَ حَامِلُ حَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَي صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا، قَالَ: إِنِّي رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَرَجَعْتُ فِي سُجُودِي، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ سَجَدْتَّ بَيْنَ ظَهْرَي الصَّلَاةِ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ، قَالَ: ((كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَلَٰكِنِّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچھلے پہر کی ظہر یا عصر کی نماز کے لیے ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن یا سیدنا حسین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اسے بٹھاکر نماز کے لیے تکبیر کہی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، بیچ میں آپ نے ایک طویل سجدہ کیا، جب میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا (کہ کیا وجہ ہے) تو اچانک وہی بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پر تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، تو میں اپنے سجدہ میں لوٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کیا کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ کوئی معاملہ پیش آگیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں تھی،یہی میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا اور میں نے ناپسند کیا کہ اس سے جلدی کروں، یہاں تک کہ وہ اپنا شوق پورا کر لے۔

وضاحت:
فوائد: … پہلی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی کو اٹھا کر نماز پڑھی۔ اس فعل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھنا یا اس کے منسوخ ہونے کا دعوی کرنا، سب باطل امور ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعلِ مبارک سے ہمیں یہ رخصت ملتی ہے کہ اگر کسی مجبوری کی بنا پر ایسے کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کئی گھروں میں دیکھا کہ بعض مائیں اس تلاش میں پھر رہی ہوتی ہیں کہ کوئی ان کے چھوٹے بچے کو اٹھائے تاکہ وہ نماز پڑھ سکیں، اس طرح ان کی کئی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، اگر ان کو اس رخصت کا علم ہو جائے تو اس میں ان کے لیے کئی آسانیاں ہیں، بشرطیکہ وہ رخصت قبول کرنے والی ہوں۔ بعض فقہا نے کہا ہے کہ چونکہ عرب لوگ بچیوں کو ناپسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ بعض عرب ان کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کرنے میں مبالغہ کیا اور نماز میں بچی کو اٹھا کر اس کی اہمیت کو ظاہر کیا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1959
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 229، وابن ابي شيبة: 12/ 100 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16033، 27647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28199»