الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ فِي جَوَازِ حَمْلِ الصَّغِيرِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي صَبِيَّةٌ فَحَمَلَهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَاسیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، یہ ایک بچی تھی اور اس کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں، آپ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، جبکہ وہ بچی آپ کے کندھے پر تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اسے کندھے پر اٹھا لیتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حالت میں نماز پڑھی کہ وہ آپ کے کندھے پر تھی، حتیٰ کہ نماز پوری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ اسی طرح کرتے رہے (کہ ہر رکوع کے وقت رکھ دیتے تھے)۔