الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ باب: نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1956
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یقینی طور پر ان احادیث کو ضرورت پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بڑی مصلحت کی بنا پر ادھر ادھر دیکھنے کو مناسب سمجھا، ہم اس موضوع پر باب نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان میں گفتگو کر آئے ہیں۔