الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ باب: نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1955
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عکرمہ کا ایک شاگرد بیان کرتا ہے کہ جنابِ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں گردن موڑے بغیر اِدھر اُدھر دیکھ لیا کرتے تھے۔