الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ باب: نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَهْوَازِ عَلَى حَرْفِ نَهْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يُصَلِّي، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اخْزِ هَٰذَا الشَّيْخَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتًّا أَوْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيَةً فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ، وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔