حدیث نمبر: 1953
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَهْوَازِ عَلَى حَرْفِ نَهْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يُصَلِّي، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اخْزِ هَٰذَا الشَّيْخَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتًّا أَوْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيَةً فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ، وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … یقینا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصتوںکی روشنی میں اس انداز میں نماز پڑھنے کو درست سمجھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1211 دون تعيين الصلاة وعدد ركعاتھا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20008»