الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ باب: نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1952
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔