الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ باب: نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1950
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سیاہ چیزوں یعنی بچھو اور اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس ضمن میں تھوڑا یا زیادہ چلنے کا یا قبلہ رخ رہنے یا نہ رہنے کا فرق کرنا، یہ سب امور بلادلیل ہیں۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو چاہیے کہ وہ ان دو جانوروں کو قتل کرے۔ لامحالہ طور پر وہ کچھ کرنا پڑے گا، جس سے ان جانوروں کو قتل کرنا پڑتاہے۔