الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
فَصْلٌ آخَرُ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَ فَضْلِهِ باب: تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 195
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مومن کے حق میں جو فیصلہ کیا، مجھے اس پر تعجب ہے، بیشک مومن کا سارے کا سارا معاملہ خیر والا ہے اور یہ (اعزاز) صرف مومن کے لیے ہے، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔“