الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1947
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے امام کو متنبہ کرنے کے لیے مرد مقتدیوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ اگر امام کو سبحان اللہ کہنے یا تالی بجانے کا مقصد سمجھ نہ آ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف دیکھے اور مقتدی اشارہ کے ذریعے اس پر اپنے مقصود کی وضاحت کر دیں، جیسا کہ اس باب کے شروع میں اشارہ کے جواز پر جتنے دلائل پیش کیے گئے، ان میں سے دوسری دلیل سے پتہ چلتاہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز میں پیچھے مڑ کر دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی نماز جاری رکھنے کا حکم دیا، لیکن وہ پھر بھی واپس ہٹ آ ئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔