الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1946
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوں کے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اسلام کی انتہائی باکمال حکمت ہے کہ اگر نماز میں کلام کو حرام قرار دیا گیا ہے تو نمازی کوسبحان اللہ کہہ کر اپنے مطلوب کی طرف اشارہ کرنے کی اجازت دے دی گئی، اس رخصت کا مقصود یہ ہے کہ نمازی کو بے چینی سے محفوظ کر دیا جائے۔