حدیث نمبر: 1946
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوں کے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ اسلام کی انتہائی باکمال حکمت ہے کہ اگر نماز میں کلام کو حرام قرار دیا گیا ہے تو نمازی کوسبحان اللہ کہہ کر اپنے مطلوب کی طرف اشارہ کرنے کی اجازت دے دی گئی، اس رخصت کا مقصود یہ ہے کہ نمازی کو بے چینی سے محفوظ کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1946
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مختصرا ومطولا البخاري: 1201، 1218، 1204، ومسلم: 421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22801، 22807، 22845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23187»