الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ يُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔