الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1941
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ جب نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی روایت کے مطابق ہاتھ سے اشارہ کرنے کی کیفیتیہ تھی: ہاتھ کو اس طرح پھیلانا کہ ہتھیلی کی پشت اوپر کی طرف اور اندرونی حصہ نیچے کی طرف ہو۔ اس حدیث میں لوگوں سے مراد اہل قبا ہے، کیونکہ بعض روایات مین یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبا میں جاتے تھے، وہاں کے لوگ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً اشارہ کرتے تھے۔