الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
فَصْلٌ آخَرُ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَ فَضْلِهِ باب: تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 194
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ، وَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم کی سعادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے اور یہ بھی ابن آدم کی خوش بختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جائے اور یہ ابن آدم کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب نہ کرے اور اس میں بھی اس کی شقاوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراض ہو جائے۔“