الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ يَهْوِي بِيَدِهِ قَالَ خَلَفٌ يَهْوِي فِي الصَّلَاةِ قُدَّامَهُ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ حِينَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ هُوَ كَانَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَرَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنْ صَلَاةٍ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَلَوْ أَخَذْتُهُ مَا انْفَلَتَ مِنِّي حَتَّى يُنَاطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ))سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، (عبدالرزاق اور خلف دونوں راویوں کے الفاظ کا اکٹھا مفہوم یہ ہے کہ) آپ نماز میں ہی اپنے سامنے اپنا ہاتھ جھکانے لگ گئے یا خود جھکنے لگ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں نے ایسا کرنے کے بارے میں پوچھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان مجھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا تاکہ مجھے میری نماز سے فتنے میں ڈال دے تو مجھے اسے پکڑنے کا خیال آیا اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے نہ چھوٹ پاتا اور اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کی طرف دیکھتے۔