الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ باب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَٰكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (کسی کام کے لئے) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔
نماز کے دوران ضرورت کے پیش نظر اشارہ کرنے کے مزید دلائل
(۱) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سورج گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ کسوف پڑھا رہے تھے، خواتین و حضرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہوا (کہ وہ اب نماز پڑھ رہے ہیں)؟ انھوں نے نماز ہی میں آسمان (یعنی سورج) کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے کہا: یہ کوئی نشانی ہے؟ انھوں نے جی ہاں کا اشارہ کیا۔ (بخاری: ۱۰۵۳) یہ واقعہ نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی کا ہے، بلکہ آپ کی اقتدا میں کھڑے ہونے والی عورتوں کا ہے، اس میں دو دفعہ اشارے اور ایک دفعہ سبحان اللہ کہنے کا ذکر ہے۔
(۲) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی صورتحال میں مردوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا حکم دیا۔ (بخاری: ۶۸۴)
(۳) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیمار ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ آپ کی اقتدا کرنے والے لوگ کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر امام کی اقتدا کے مسئلہ کی وضاحت کی۔ (بخاری: ۶۸۸)
(۴) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد ظہر کے بعد والی دو رکعتیں ادا کر رہے تھے، تو اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے والی لونڈی کی طرف اشارہ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔ (بخاری: ۱۲۳۳)
(۵) سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے، جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین اچھل کر آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے۔ جب صحابہ ارادہ کرتے کہ انھیں روکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ کرتے کہ ان کو (اپنے حال پر) چھوڑ دو۔ جب نماز پوری کرتے تو انھیں اپنی گودی میں بٹھا لیتے اور فرماتے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت کرے۔ (صحیح ابن خزیمہ: ۸۸۷، مسند ابو یعلی: ۶۰/ ۲، صحیحہ: ۳۱۲)
(۶) سیدنا عبد اللہ بن زید اور حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو ایک دن وادیٔ بطحا میں نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے سامنے سے گزرنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ ٹھہر جا۔ پس وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو وہ سامنے سے گزر گئی۔ (مسندأحمد: ۵/۲۱۶، صحیحہ: ۳۰۴۲) ان اور اس موضوع پر دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے دورانِ نماز کسی کی طرف اشارہ کرنے کی رخصت برقرار رکھی ہے۔