الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ نَهْيِ الْمُصَلِّي عَنِ التَّنَخُّمِ جِهَةَ الْإِمَامِ أَوْ الْيَمِينِ وَعَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ باب: نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي، فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يُؤْلُو، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا رَابَهُ مِنِّي، فَأَسْرَعْتُ الاِنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ فَقَالَ: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ذَٰكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُزیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میں کہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع کرتے تھے۔