حدیث نمبر: 1931
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْخَمِيصَةَ هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْبِجَانِيَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ: ((إِنِّي كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقش و نگار والی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ابو جہم کودے دی اور اس سے انبجانیہ چادر لے لی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ نقش و نگار والی چادر سادہ چادر سے بہتر تھی، (آپ نے وہ واپس کیوں کر دی؟) آپ نے فرمایا: بلاشبہ میں نماز میں اس کے نقش کی طرف دیکھتا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ فَاَخَافُ اَنْ تَفْتِنَنِیْ1 اور مؤطا امام مالک کی روایت کے الفاظ فَکَادَ یَفْتِنُنِیْ2 کی روشنی مین یہ ترجمہ کیا گیا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے۔ ابوجہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کپڑا بطور ہدیہ دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے انبجان علاقے والا طلب کیا تاکہ وہ ہدیہ واپس آنے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احساس ہوا تو آپ نے نقش و نگار والے کپڑے کو فوراً ردّ کر دیا، چونکہ ہم نماز کے حقیقی تصور کو ہی نہ سمجھ سکے، جس کی وجہ سے ہم مسجد کی منقش دیواروں، گھروں کے جاذب نظر پردوں، جائے نمازوں اور قالینوں کے مختلف ڈیزائنوں اور اپنے رنگا رنگ کے کپڑوں سے متأثر ہی نہیں ہوتے، یہ فیصلہ محض ہماری سوچ ہے، وگرنہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متأثر ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچنے کے اسباب کا استعمال بھی کرتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنی اہلیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ آج کل مسجدوں کی سامنے والی دیواروں پر بیشمار چارٹ اور سٹکرز آویزاں کیے جاتے ہیں، جن سے کوئی نمازی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی اِن میں کوئی اچھی چیز ہو تو دائیں بائیں کی دیواروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1931
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24694»