الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِالِاسْتِمَالِ وَالسَّدْلِ وَالْإِسْبَالِ وَفِي تَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ وَفِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ باب: نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1930
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ((شَغَلَنِي أَعْلَامُهَا، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے، اس لیے اس کو ابو جہم کی طرف لے جاؤ اور میرے پاس انبجانیہ کپڑا لے آؤ۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ فَاَخَافُ اَنْ تَفْتِنَنِیْ1 اور مؤطا امام مالک کی روایت کے الفاظ فَکَادَ یَفْتِنُنِیْ2 کی روشنی مین یہ ترجمہ کیا گیا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے۔ ابوجہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کپڑا بطور ہدیہ دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے انبجان علاقے والا طلب کیا تاکہ وہ ہدیہ واپس آنے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احساس ہوا تو آپ نے نقش و نگار والے کپڑے کو فوراً ردّ کر دیا، چونکہ ہم نماز کے حقیقی تصور کو ہی نہ سمجھ سکے، جس کی وجہ سے ہم مسجد کی منقش دیواروں، گھروں کے جاذب نظر پردوں، جائے نمازوں اور قالینوں کے مختلف ڈیزائنوں اور اپنے رنگا رنگ کے کپڑوں سے متأثر ہی نہیں ہوتے، یہ فیصلہ محض ہماری سوچ ہے، وگرنہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متأثر ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچنے کے اسباب کا استعمال بھی کرتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنی اہلیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ آج کل مسجدوں کی سامنے والی دیواروں پر بیشمار چارٹ اور سٹکرز آویزاں کیے جاتے ہیں، جن سے کوئی نمازی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی اِن میں کوئی اچھی چیز ہو تو دائیں بائیں کی دیواروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔