الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
فَضْلٌ مِنْهُ فِي مُحَاجَّةِ آدَمَ وَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ باب: حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ) فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ (وَقَالَ مَرَّةً: بِرِسَالَتِهِ) وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: حَجَّ آدَمُ مُوسَى حَجَّ آدَمُ مُوسَى))سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا جھگڑا ہونے لگا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے آدم! تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں ناکام کیا اور جنت سے نکال دیا، ایک روایت میں ہے: تم وہ آدم ہو کہ جس کو اس کی غلطی نے جنت سے نکال دیا؟ آدم علیہ السلام نے کہا: اے موسی! تم وہی ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور اپنی رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی، اب کیا تم مجھے ایسی چیز پر ملامت کرتے ہو، جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس برس پہلے میرے حق میں لکھ دی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“