حدیث نمبر: 1926
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو وہ نماز چھوڑکر سوجائے حتیٰ کہ وہ اپنے کہے ہوئے کلمات کو سمجھنے لگ جائے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں ہمیں نماز میںجن امور سے منع کیا گیا ہے، ان سے یہ اندازہ تو ہو جانا چاہیے کہ ہمیں نماز کا حکم دینے سے اللہ تعالیٰ کا مقصود کیا ہے، کیایہی مقصد نظر نہیں آتا ہے کہ گویا کہ بندہ ایک عالَم سے دوسرے عالَم میں گھس جائے اور اسے اپنے وجود تک کی کوئی فکر اور ضرورت باقی نہ رہے۔ جبکہ ہماری صورتحال یہ ہے کہ بھوک بھی نہیں لگی ہوتی اور قضائے حاجت کی ضرورت وغیرہ بھی محسوس نہیں ہو رہی ہوتی، لیکن اس کے باوجود ہماری روح کو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا اور آپ مانیںیا نہ مانیں جب ہم نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو تازگی، خوشی اور ایمان کی بڑھتی ہوئی حلاوت کی بجائے ہمیں ذہنی تھکاوٹ کا احساس ہو رہا ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارا ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے مختلف امور میں غور وفکر کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1926
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 213 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12446، 12520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12548»