الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ وَهُوَ حَاقِنٌ وَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَبِمُدَافِعَةِ النُّعَاسِ باب: پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں¤اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک نیند کا اثر ختم ہو جائے، کیونکہ جب وہ اسی اونگھنے والی حالت میں نماز پڑھے گا تو ممکن ہے کہ وہ (بزعم خود) بخشش طلب کر رہا ہو، جبکہ وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی کی روایت مین یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ نمازی کا مقصود اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ (اے اللہ مجھے بخش دے) کہنا ہو، جبکہ نیند کے غلبے کی وجہ سے اس کی زبان سے اَللّٰھُمَّ اعْفِرْ (اے اللہ مجھ پر مٹی ڈال، مجھے خاک آلود کر دے) نکل رہا ہے، پہلا جملہ دعا ہے اور دوسرا بد دعا۔