حدیث نمبر: 1925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک نیند کا اثر ختم ہو جائے، کیونکہ جب وہ اسی اونگھنے والی حالت میں نماز پڑھے گا تو ممکن ہے کہ وہ (بزعم خود) بخشش طلب کر رہا ہو، جبکہ وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی کی روایت مین یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ نمازی کا مقصود اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ (اے اللہ مجھے بخش دے) کہنا ہو، جبکہ نیند کے غلبے کی وجہ سے اس کی زبان سے اَللّٰھُمَّ اعْفِرْ (اے اللہ مجھ پر مٹی ڈال، مجھے خاک آلود کر دے) نکل رہا ہے، پہلا جملہ دعا ہے اور دوسرا بد دعا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1925
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 212، ومسلم: 786 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24791»