الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ وَهُوَ حَاقِنٌ وَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَبِمُدَافِعَةِ النُّعَاسِ باب: پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں¤اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1921
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَجَّ فَكَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، فَأَقَامَ يَوْمًا الصَّلَاةَ وَقَالَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَذْهَبْ إِلَى الْخَلَاءِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حج کیا، وہ (اس سفر کے دوران) اذان دیتے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن وہ نماز تو کھڑی کرنے لگے، لیکن اتنے میں کہا: تم میں سے کوئی بندہ نماز پڑھا دے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں کسی کا قضائے حاجت کے لیے جانے کا ارادہ ہو اور نماز بھی کھڑی کر دی جائے تو وہ پہلے قضائے حاجت کر لے۔