الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْبَصَرِ وَالْإِشَارَةِ بِالْيَدِ وَاتِّخَاذِ مَكَانٍ مَخْصُوصٍ لِلصَّلَاةِ فِيهِ باب: (نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے¤اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1920
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ اِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا: کوے کے ٹھونگے سے،درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی نماز کے لیےیوں جگہ مقرر کر لے، جیسے اونٹ کرتا ہے۔ نماز میں اپنے کھڑے ہونے کی جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے شواہد اور روایات سے یہ تینوں امور ثابت ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگ لگانا اس سے مراد سجدے کا اختصار اور تخفیف ہے۔ درندے کی طرح بازو بچھانا اس سے مراد سجدے میں بازوؤں کو زمین پر بچھا دینا ہے، جیسا کہ کتے اور بھیڑیئے وغیرہ کرتے ہیں۔ اونٹ کی طرح جگہ مقرر کرنا اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ خاص کر لے، وہ صرف اسی میں نماز پڑھے اور اس جگہ کا اتنا اہتمام کرے کہ وہاں بیٹھ جانے والے کو اٹھا دے۔