حدیث نمبر: 192
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ زِيَادَةُ: ((تَعَرَّفْ إِلَى اللَّهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ (وَفِيهِ أَيْضًا) فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: ”تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ عقیدے کی پختگی ہو گی کہ مختلف جسمانی اور روحانی آزمائشوں سے بچنے کے لیے جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اگر وسائل کی کمی کے باوجود کافروں سے جہاد کرنے کی نوبت آ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جانا چاہیے، کسی بیماری کے علاج کے جائز اسباب استعمال کرنے چاہئیں، لیکن شفا کے معاملے میں توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، ان د و احادیث میں مذکورہ باقی نصیحتیں بھی اس لائق ہیں کہ ان کا بغور مطالعہ کر کے ان کو اپنایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه الترمذي: 2516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2803»