حدیث نمبر: 1918
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ مختلف حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم کو ٹولیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگوں نے (نماز میں) سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں سکون اختیار کرو۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے حصے میں افتراق سے منع کیا گیا اور اجتماعیت کا حکم دیا گیا۔ دوسرے حصے کی وضاحت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اسی موضوع سے متعلقہ دوسری روایت سے ہوتی ہے کہ صحابہ کرام سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو دائیں بائیں حرکت دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سکون اختیار کرنے یعنی ہاتھوں کو رانوں پر ہی رکھ کر سلام پھیرنے کا حکم دیا۔ احناف نے اس حدیث سے رکوع والے رفع الیدین کی نفی کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ کسی طرح درست نہیں ہے، اس کی وضاحت سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان میں گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلاکہ نماز میں غیر شرعی اشارہ کرنا درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن مواقع پر اشارہ کیا؟ اس پر تفصیلی بحث آگے آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20874، 20875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21340»