حدیث نمبر: 1911
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِيَّاكُمْ وَالْإِلْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرَائِضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفل نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔

وضاحت:
فوائد: … قیام کے دوران نمازی کا سر جھکا ہوا ہو اور اس کی نگاہ سجدہ گاہ پر ہو، جیسا سنن بیہقی اور مستدرک حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ ہونا، ان احادیث سے اس چیز کے حکم کا اندازہ ہو جاتا ہے، جب تک بندہ قبلہ رخ رہتا ہے، اس وقت تک ادھر ادھر دیکھنا مکروہ ہے اور نماز کے اجرو ثواب میں کمی آ جاتی ہے، لیکن اگر کوئی نمازی اتنا پھر جاتا ہے کہ وہ قبلہ رخ ہی نہیں رہتا، جبکہ اس کا عذر بھی کوئی نہیں ہوتا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے اور وہ دوبارہ نماز شروع کرے گا۔ ذہن نشیں رہے کہ ضرورت کے وقت نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائزہے، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے تھے، سنن ابی داود کی روایت کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھاٹی کی طرف رات کے پہرے کے لیے ایک گھوڑ سوار بھیجا ہوا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری کی سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے تالیاں بجانے کی وجہ سے نماز میں پیچھے دیکھا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1911
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المرائي التميمي ذكره الذھبي في الميزان فقال: ميمون ابو محمد شيخ، حدث عنه محمد بن بكر البرساني، لايعرف۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»