حدیث نمبر: 191
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا غُلَامُ! إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ (يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا) احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه الترمذي: 2516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2669»