الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
4- بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ وَتَفْقِيعِ الْأَصَابِعِ وَتَشْبِيكِهَا باب: نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 1907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ احکام دوسری احادیث میں ثابت ہیں۔ ٹھونگے مارنے سے مراد سجدہ کرتے وقت کی جلد بازی ہے، اور کتے یا لومڑ کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ممنوع صورت ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔