حدیث نمبر: 1905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ … … وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ)) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الْحَدِيثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، … ۔ الحدیث

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اس طرح پھونک مارنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔ نیز اس دعا سے پتہ چلا کہ سجدے میں دعا اور تسبیح کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194، والنسائي: 3/ 149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6483»