الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ … … وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ)) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الْحَدِيثُسیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، … ۔ الحدیث