الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1904
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ: ابْنَ أَخِي! لَا تَنْفُخْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ: ((تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ نماز میں کوئی زائد حرکت اور فعل نہیں کرنا چاہیے۔ ان احادیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ عینک والے حضرات کو نماز شروع کرنے سے پہلے عینک اتار کر رکھ لینی چاہیے، نہ کہ سجدے کیطرف جھکتے ہوئے، اسی طرح موبائل وغیرہ نماز شروع کرنے سے پہلے بند کرنا چاہیے، تاکہ دوران نماز زائد حرکات سے بچا جا سکے۔ علی ہذا القیاس۔