الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1903
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ دوپہر کی سخت گرمی اور تپتی زمین کی وجہ سے ان کی نمازیں متاثر نہیں ہوتی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لیے اس قسم کا کام کر سکتا ہے۔