حدیث نمبر: 1900
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: ((وَاحِدَةً، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو۔ عاجزیو انکساری اور خشوع و خضوع کا تعلق نمازی کے دل و دماغ اور ظاہری جسم دونوں سے ہے، نماز میں جسم پر بھی خوف و خشیت کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں اور فضول حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بعض نمازی طبعی طور پر سر میں خارش کرنے، داڑھی کے بالوں کو چھیڑنے، ناک میں انگلی ڈالنے اورکپڑوں اور بالوں کو سنوارنے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ حدیث ِ مبارکہ اس امر میں واضح دلیل ہے کہ نمازی کو فضول حرکات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر واقعی کوئی ضرورت محسوس ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1900
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے، ملاحظه هو سلسله احاديث صحيحه: 3062 أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 411، وابن خزيمة: 897 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14253»