حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقْيًا نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقْيًا نَتَّقِيهَا تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: ((إِنَّهَا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو خزامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو رد کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ مختلف بیماریاں اور ان کے علاج کے لیے کوئی دوا کھانا یا دم کروانا، اِن سب چیزوں کا تعلق تقدیر سے ہے، اللہ تعالیٰ نے خود مختلف اسباب استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي خطأ فيه۔ أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15551»