حدیث نمبر: 1898
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَاوِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَلَبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ: لَا تَقْلِبِ الْحَصَى فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَٰكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، كَانَ يُحَرِّكُهُ هَٰكَذَا، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي مَسْحَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ

وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرورت ہوتی تو ایک دفعہ ہاتھ مار کر ان کو درست یا صاف کر لیتے تھے۔ آنے والے تیسری روایت میں اسی مسئلہ کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه مسلم: 580 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4575»