الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1897
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: قدیم عربوں کییہ طبعی عادت تھی کہ جن کے لمبے بال ہوتے تھے، وہ ان کو اکٹھا کر کے باندھ لیتے تھے، اب بھی بعض علاقوں میں کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں اس طرح کرنے سے منع کر دیا اور بالوں کو کھولنے کا حکم دیا تاکہ سجدہ کی ادائیگی بدرجۂ اتم ہو سکے۔ (صحیحہ: ۲۳۸۶)