حدیث نمبر: 1893
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کردیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں نماز پرھتے ہوئے دیکھا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تومیری ٹانگ دباتے تھے، پس میں اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں، صرف اس باب کے مطابق چار صحابہ نے اس کو بیان کیا ہے، لیکنیہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم میں نہیں تھی، اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے چارپائی سے کھسک جانے اور ٹانگ کو پیچھے کھینچ لینے سے عورت کا سامنے سے گزر جانے کا استدلال کیا، حالانکہ اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، اگر یہ گزرنا ہوتا تو قطعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت نہ دیتے، جیسا کہ دوسری قولی اور فعلی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1893
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 519، ومسلم: 744، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24670»