حدیث نمبر: 1892
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَتْ: أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اسود کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ لوگ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں تو وہ کہنے لگیں: کیا میں لوگوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہی کہ انھوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برا برکردیا ہے، حالانکہ بسا اوقات ایسے ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی ضرورت پڑتی تو چارپائی کی پاؤں والی طرف سے کھسک جاتی، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کروں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ذكره الامام احمد في عدة اماكن مطولا ومختصرا۔ أخرجه البخاري: 383، 384، 515، 519، ومسلم: 512، 744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24088، 24153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24654»