حدیث نمبر: 1886
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ حَتَّى قَضَوُا الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب ہم حبشہ کی طرف جانے سے پہلے مکہ میں ہوتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز میں سلام کہتے تھے (اور آپ سلام کا جواب دیتے تھے)، لیکن جب ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے جواب نہ، مجھے تو قریب کی اوردور کی وجوہات نے پکڑ لیا (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، بالآخر) جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ ہم نماز میں کلام نہ کریں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ لوگ مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ بھی حبشہ سے مدینہ پہنچ گئے تھے، اس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1886
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 924، والنسائي: 3/ 19، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3575»