الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ مِنَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ حَتَّى قَضَوُا الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ))۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب ہم حبشہ کی طرف جانے سے پہلے مکہ میں ہوتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز میں سلام کہتے تھے (اور آپ سلام کا جواب دیتے تھے)، لیکن جب ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے جواب نہ، مجھے تو قریب کی اوردور کی وجوہات نے پکڑ لیا (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، بالآخر) جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ ہم نماز میں کلام نہ کریں۔