الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ مِنَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1885
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي (ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے تھے، جب کہ آپ نماز میں ہوتے، اور آپ ہمیں جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہتے تھے توآپ جواب دیتے تھے، (لیکن آج؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔