حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنَ الرَّحَى أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا آتِيكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكِ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ، وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقُولِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهَا غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهَا عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کام کا شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! چکی کی وجہ سے میرے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے ہیں، کبھی آٹا پیستی ہوں اور کبھی گوندھتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ تیرے لیے کوئی چیز عطا کرے گا تو وہ تیرے پاس پہنچ جائے گی اور میں اس سے بہتر چیز پر تیری رہنمائی کر دیتا ہوں، جب تو اپنے بستر پر جائے تو تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ اور چونتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ، یہ ایک سو ہو گئے، یہ تیرے لئے خادم سے بہتر ہیں اور جب تو صبح کی نمازادا کرلے تو دس دفعہ یہ دعا پڑھ: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئِ قَدِیْرٌ۔ مغرب کی نماز کے بعد بھی دس دفعہ پڑھ۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس برائیاں معاف ہو جاتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور کسی گناہ کے لئے، جس کا اس دن ارتکاب کیا گیا، حلال نہیں کہ ایسے شخص کو ہلاک کرسکے، الا یہ کہ وہ شرک ہو اور یہ ذکر صبح کے وقت کہنے سے شام کے وقت کہنے تک ہر شیطان اور ہر بری چیز سے تیرا محافظ ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1879
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اس حديث ميں سيده فاطمه رضي الله عنها كا خادم طلب كرنا اور آپ صلي الله عليه وآله وسلم كا سوتے وقت كے ذكر كي تعليم دينا صحيح لغيره هے، يه سند شھر بن حوشب كے اضطراب كي وجه سے ضعيف هے۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27086»