حدیث نمبر: 1878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَلَمْ يَحِلِّ لِذَنْبٍ يُدْرِكُهُ إِلَّا الشِّرْكُ، فَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مغرب اور صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد (اپنی جائے نماز سے) پھرنے اور ٹانگ موڑنے سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُیُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔)تو ایسے شخص کے لیے ہر دفعہ یہ کہنے کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی اوراس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ اور مردود شیطان سے بچاؤ ہوں گے اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کے لیے حلال نہیں ہوگا کہ وہ ایسے آدمی کو ہلاک کر سکے اور ایسا آدمی عمل کے لحاظ سے سب لوگوں میں افضل ترین ہوگا، سوائے اس آدمی کے، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، یعنی اس سے زیادہ یہ ذکر کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1878
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لارساله، ولضعف شھر بن حوشب، وقد اضطرب في سنده و متنه۔ أخرجه ابن حجر في نتائج الافكار : 2/305، وعبد الرزاق: 3192 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18153»