الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بابُ جَامِعِ الْأَذْكَارِ وَتَعَوذَاتٍ وَأَدْعِيَةٍ وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُوَرٍ عَقْبَ الصَّلَوَاتِ باب: نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) (الْحَدِيث) وَفِي آخِرِهِ قَالَ وَرَّادٌ: ثُمَّ وَفَدْتُّ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ وَيُعَلِّمُهُمُوهُ۔ (تیسری سند)عبدۃ بن ابی لبابہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام وَرَّادنے انہیں بتایا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، وراد نے خود یہ خط لکھا تھا، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ جب آپ سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … … ۔ مکمل حدیث بیان کی، اس روایت کے آخرمیں ہے: وراد نے کہا: اس کے بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے سنا کہ وہ منبر پر لوگوں کو اس دعا کا حکم دے رہے تھے اور ان کو اس کی تعلیم دے رہے تھے۔