الفتح الربانی
أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة— نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ والتَّكْبِيرِ وَالْاسْتِغْفَارِ عَقْبَ الصَّلَوَاتِ باب: نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
حدیث نمبر: 1868
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللَّہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْ کْرَامِ۔ (اے اللہ! تو سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے تو بابرکت ہے اے شان و عزت والے۔)
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْصَرِفَ کی بجائے إِذَا اِنْصَرَفَ کے الفاظ ہیں اور اس مقام پر انصراف کے معانی سلام کے ہیں۔ علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ سلام کے بعد درج بالا اور دیگر مسنون اذکار مستحب ہیں، فرض نہیں ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑی اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کی نمازوں میں بڑا نقص موجود ہیَ۔