حدیث نمبر: 1867
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي نَفْعَلُ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیں یا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیل یہ ہے) کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1867
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بطرقه و شواھده۔ أخرجه الطيالسي: 982، والطبراني في الدعائ : 711، والنسائي في عمل اليوم والليلة كما في تحفة الأشراف : 8/ 237، وابن ابي شيبة: 10/ 235 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21709) وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22052»