حدیث نمبر: 1865
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَطْلُبَانِ خَادِمًا مِنَ السَّبْيِ يَخْفِّفُ عَنْهُمَا بَعْضَ الْعَمَلِ فَأَبَى عَلَيْهِمَا ذَلِكَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا: ((أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟)) قَالَا: بَلَى، فَقَالَ: ((كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ)) قَالَ: فَوَ اللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں سے ایک خادم کا سوال کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، تاکہ بعض کام وہ کر دے اور اس طرح ان پر ذرا تخفیف ہو جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خادم دینے سے انکار کر دیا، … سارا قصہ ذکر کیا … ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دے دوں جو اس چیز سے بہتر ہے، جس کا تم نے سوال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چند کلمات ہیں، جبریل علیہ السلام نے مجھے ان کی تعلیم دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو، پھر جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے، تب سے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔ ابن کوا نے کہا: کیا صفین والی رات بھی نہیں چھوڑے تھے ؟ انہوں نے کہا: اے اہل عراق! تمہیں اللہ تباہ کرے، ہاں ہاں میں نے صفین والی رات کو بھی ان کو ترک نہیں کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … قصہ سے مراد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شکایات کی تفصیل ہے، نیز اس میں اس سازو سامان کا بھی ذکر ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کو ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا۔ صفین والی رات سے مراد وہ لڑائی ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل شام کے درمیان لڑی گئی تھی، ویسے فرات کے قریب ایک جگہ کا نام صفین ہے، جس مین یہ جنگ ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1865
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4152، وابن ابي شيبة: 10/ 232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 838»