حدیث نمبر: 1864
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَلَّتَانِ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِمَا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ)) قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((أَنْ تَحْمَدَ اللَّهَ وَتُكَبِّرَهُ وَتُسَبِّحَهُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرًا عَشْرًا وَإِذَا أَتَيْتَ إِلَى مَضْجَعِكَ تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَتَانِ بِاللِّسَانِ وَأَلْفَانِ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟)) قَالُوا: كَيْفَ مَنْ يَعْمَلُ بِهَا قَلِيلٌ؟ قَالَ: ((يَجِيءُ أَحَدُكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةَ كَذَا وَكَذَا فَلَا يَقُولُهَا وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ فَلَا يَقُولُهَا)) قَالَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو خصلیتں ہیں، جو ان پر محافظت کرے گا، وہ اسے جنت میں داخل کردیں گی، وہ دو آسان تو ہیں لیکن عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دو ہیں کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا، پھر جب تو اپنے بستر پر آئے تو سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے،یہ زبان پر تو کل دو سو پچاس کلمات ہوں گے، لیکن ترازو میں دو ہزار پانچ سو ہوں گے، (اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ) تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہو؟ صحابہ نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کم کیسے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نماز میں ہی تمہارے پاس آ جاتا ہے اور ضروریات یاد کروانا شروع کر دیتا ہے، پس وہ (سلام کے بعد فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور) یہ کلمات کہہ نہیں پاتا، اسی طرح وہ (رات کو) سوتے وقت بھی آجاتا ہے اور اس ذکر سے پہلے ہی اسے سلا دیتا ہے، پس وہ یہ کلمات نہیں کہہ پاتا۔ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو شمار کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! آپ کو اس ذکر کی عظمت کا اندازہ تو ہو چکا ہو گا کہ یہ انتہائی آسان عمل روزانہ ڈھائی ہزار نیکیوں کا سبب بنتا ہے، لیکن آپ مانیںیا نہ مانیں، نمازیوں کی بھاری اکثریت اس کا اہتمام کرنے سے عاجز ہے، اب ہم ایسی قوم بن چکے ہیں کہ چائے کی ایک ایک مجلس میں ڈیڑھ دو دو گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے بارے میں ہمارے آلودہ ذہنوں میں ایک ہی قانون رچ بس چکا ہے کہ مسجد میں آنے میں دیر کی جائے اور جلدی جلدی وہاں سے نکل جایا جائے، اگر کسی مسجد میں فرضی نماز کے بعد کوئی اجتماعی دعا یا پانچ چھ منٹوں کا درس ہو جائے تو سارے نمازی اس ذکر سے محروم ہو جاتے ہیں، سلام پھیرنے کے بعد اکثر نمازیوں کی مسجد سے نکلنے کییہ کیفیت ہوتی ہے کہ اگر مسجد میں زیادہ دیر لگ گئی تو کوئی آفت آ دبوچے گی۔ رہا مسئلہ سوتے وقت یہ تسبیحات کہنے کا تو وہ تو شیطان نے جو ٹھیکہ لیا تھا، وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہے، ہم عام طور پر عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھروں میں دو تین چار گھنٹوں تک جاگتے رہتے ہیں، کوئی کھانے میں مصروف، کوئی گپ شپ کی محفل میں مگن، کوئی کسی گیم اور کھیل میں مشغول اور کوئی کسی ڈرامے کو دیکھنے سننے میںیا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر اتنا مگن کہ کسی کے لیے کوئی فرصت نہیں، … … علی ہذا القیاس۔ لیکن جب سونے کی باری آئے گی اور ہم اپنا سر نرم سے تکیے پر رکھیں گے تو زبان موٹی ہو کر گنگ ہو جائے اور بہت جلدی آنکھیں پھڑپھڑانا شروع ہو جائیں گی اور بالآخر اللہ کا ذکر کا کوئی کلمہ کہنے سے پہلے مجازی موت مر جائیں گی۔ یہ کوئی جذباتی الفاظ یا تقریر نہیں ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو حقیقت سمجھے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس کی وجہ اللہ تعالیٰ سے قلت ِ معرفت اور دینی اور اخروی امور میں عدم دلچسپی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1864
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 5065، والترمذي: 3410، والنسائي: 3/ 74 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6498، 6910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6498»