حدیث نمبر: 1850
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمْعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمْعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوْصِلْ صَلَاةً بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میں ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16991»