الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَكْثِ الْإِمَامِ بِالرِّجَالِ قَلِيلا لِتَخْرُجَ النِّسَاءُ وَالفَصْلِ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّافِلَةِ بِخُرُوجِ أَوْ كَلَامِ أَوْ انْتِقَالِ باب: امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمْعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمْعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوْصِلْ صَلَاةً بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَسائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میں ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔