الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَكْثِ الْإِمَامِ بِالرِّجَالِ قَلِيلا لِتَخْرُجَ النِّسَاءُ وَالفَصْلِ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّافِلَةِ بِخُرُوجِ أَوْ كَلَامِ أَوْ انْتِقَالِ باب: امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
حدیث نمبر: 1849
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔