الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
بَابُ مَكْثِ الْإِمَامِ بِالرِّجَالِ قَلِيلا لِتَخْرُجَ النِّسَاءُ وَالفَصْلِ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّافِلَةِ بِخُرُوجِ أَوْ كَلَامِ أَوْ انْتِقَالِ باب: امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
حدیث نمبر: 1848
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَتِ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔