حدیث نمبر: 1847
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ثُمَّ قَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَهُ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے،وضو کیا اور دو رکعت نمازِظہر اور دو رکعت نمازِ عصر ادا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطورِ سترہ) تھی اور اس کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے رہے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں سے ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر رکھا (اور محسوس کیا کہ) وہ تو برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ان دوابواب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کے پھرنے کے تین طریقے مشروع ہیں، دائیں طرف، بائیں طرف اور لوگوں کی طرف۔ آج کل کئی لوگوں کو نہ صرف ایک طریقے پر پابندپایا گیا ہے، بلکہ وہ دوسرے طریقوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3553، ومسلم: 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18974»