الفتح الربانی
أبواب صفة الصلاة— نماز کے طریقہ کے ابواب
باب استقبال الإمام الناس بوجهه عقب السلام وتبرك الصحابة بالنبي صلى الله عليه وسلم باب: سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکت حاصل کرنا
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ثُمَّ قَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَهُ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِسیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے،وضو کیا اور دو رکعت نمازِظہر اور دو رکعت نمازِ عصر ادا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطورِ سترہ) تھی اور اس کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے رہے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں سے ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر رکھا (اور محسوس کیا کہ) وہ تو برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ تھا۔